18

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.. قسط 66

#سیرت_النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم..

قسط نمبر 66

حضرت ابو طالب کی وفات کے تین دن بعد اور ایک اور روایت کے بموجب 35 دن بعد رفیقہ حیات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بھی وفات پائی.. ان کی وفات نبوت کے دسویں سال ماہِ رمضان میں ہوئی.. اس وقت وہ 65 برس کی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی عمر کی پچاسویں منزل میں تھے.. یوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں مددگار اور غمگسار اٹھ گئے.. یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بڑا سخت صدمہ تھا..

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اللہ تعالیٰ کی بڑی گرانقدر نعمت تھیں.. وہ ایک چوتھائی صدی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت میں رہیں اور اس دوران رنج وقلق کا وقت آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تڑپ اٹھتیں.. سنگین اور مشکل ترین حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قوت پہنچاتیں.. تبلیغ ِ رسالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کرتیں اور اس تلخ ترین جہاد کی سختیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریک کار رہتیں اور اپنی جان ومال سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خیر خواہی وغمگساری کرتیں..

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی یاد کبھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل سے محو نہ ہوئی.. اکثر یاد فرمایا کرتے.. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے..

“جس وقت لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا وہ مجھ پر ایمان لائیں.. جس وقت لوگوں نے مجھے جھٹلایا انہوں نے میری تصدیق کی.. جس وقت لوگوں نے مجھے محروم کیا انہوں نے مجھے اپنے مال میں شریک کیا اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد دی اور دوسری بیویوں سے کوئی اولاد نہ دی..”

(مسند احمد , 6/118)

صحیح بخاری میں سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا.. “اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ خدیجہ رضی اللہ عنہ تشریف لا رہی ہیں، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن یا کھانا یا کوئی مشروب ہے.. جب وہ آپ کے پاس آپہنچیں تو آپ انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیں اور جنت میں موتی کے ایک محل کی بشارت دیں جس میں نہ شور وشغب ہوگا نہ درماندگی وتھکان..”

(صحیح بخاری , باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحوالہ الرحیق المختوم)
پچیس سال تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مددگار و مشیر رہیں.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام اولاد بجز حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ (جو حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے تھے) ان ہی سے ہوئی.. ان کی زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرا نکاح نہیں کیا.. تاریخِ وفات 11 رمضان 10 نبوت ہے.. اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نہیں آیا تھا.. آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ان کی قبر میں اترے.. انھیں مقام جحون میں دفن کیا گیا..

حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے یہ دونوں الم انگیز حادثے صرف چند دنوں کے دوران پیش آئے جس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں غم والم کے احساسات موجزن ہوگئے اور اس کے بعد قوم کی طرف سے بھی مصائب کا طومار بندھ گیا کیونکہ حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد ان کی جسارت بڑھ گئی اور وہ کھل کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت اور تکلیف پہنچانے لگے.. اسی طرح کے پے در پے آلام ومصائب کی بنا پر اس سال کو ”عام الحزن” یعنی غم کا سال قرار دیا گیا اور یہ سال اسی نام سے تاریخ میں مشہور ہوگیا..

حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد ابولہب کو سردار قبیلہ بنایا گیا.. اس کا اصل نام عبد العزیٰ تھا..

سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں