21

ساتویں بات جس سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

#نواقص_اسلام_پوسٹ_نمبر7

ساتویں بات جس سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے

ساتویں بات جس سے انسان کفر کا مرتکب ہوتا ہے جادو ہے۔ جادو میں محبت کے ٹونے بھی آتے ہیں اور کسی محبت سے دل پھیرنے کے بھی، سو جو یہ کام کرے یا اس پر راضی ہو وہ کافر ہو جاتاہے۔

قرآن میں اس کے کفر ہونے کی دلیل یہ ہے۔

(البقرہ: ١٠٢)

”حالانکہ وہ (فرشتے) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے تو پہلے صاف طور پر متنبہ کر دیتے تھے کہ دیکھ ہم محض ایک آزمائش ہیں، تو کفر میں مبتلا نہ ہو“۔

نواقض اسلام کے اس ساتویں شعبے میں توہم پرستی پر مشتمل کفریات اور شرکیات سب آجاتی ہیں۔ جادو کرنے اور کرانے والا شخص بلاشبہ کفر کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایسا آدمی اپنی آخرت برباد کر لیتا ہے…. الا یہ کہ وہ اس سے تائب ہو جائے۔

عامل سنیاسی ہمارے شہروں بازاروں میں جگہ جگہ بیٹھے نظر آئیں گے۔ ان کے پاس ضعیف الاعتقاد لوگوں کے ٹھٹھ لگے ہر وقت دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ صریحاً کفر اور جاہلیت کے مظاہر ہیں۔

بہت سے لوگ ان طاغوتوں کے پاس جاتے ہیں۔ ’عمل‘ کرتے بھی ہیں اور کرواتے بھی ہیں۔ عامل لوگ بسا اوقات اس کو جادو کا نام نہیں دیتے۔ یا تو اس لئے کہ جادو ٹونے کا لفظ بدنام ہو گیا ہے اور یا پھر اس لئے کہ جادو کا گناہ ہونا ہر کس وناکس کو معلوم ہے لہٰذا وہی کام اب کسی اور نام سے کیا جائے۔

بہت سے لوگ جادو تب سمجھتے ہیں جب ان کے خیال میں وہ ’کالا علم‘ ہو۔ کسی اور نام سے شیطانی عمل جتنا مرضی ہوتا رہے وہ اس کو ’سفید علم‘ کے نام سے قبول کر لیتے ہیں حتی کہ اس کو شرعاً حرام کہنے سے بھی اتفاق نہیں کرتے۔ یوں نام بدل بدل کر عامل ان کو گمراہ کرتے ہیں۔

یہ گمراہ عامل ایسے بدبخت ہیں کہ بسا اوقات یہ قرآنی آیات کو الٹی ترتیب سے لکھ کر یا پھر قرآنی آیات کو اپنے جادو کے اعداد یا زائچوں کے ساتھ خلط کرکے لوگوں کو کہتے ہیں کہ ان کو قرآنی تعویذ دیئے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں نجومی جو قسمت کا حال بتاتے ہیں وہ بھی جادوگروں کے حکم میں آتے ہیں۔ یہ ستاروں پر مشتمل زائچے بنا کر اور تاریخ پیدائش وغیرہ کا حساب رکھ کر لوگوں کو غیب کی خبریں اور قسمت کا حال بتاتے ہیں۔ امام محمد بن عبدالوہاب اپنی کتاب التوحید میں باب ٤٢ بین شیءمن انواع السحر کے تحت یہ حدیث لے کر آتے ہیں:

وعن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال: قال رسول اللہ :

”من اقتبس شعبہ من النجوم، فقد اقتبس شعبہ من السحر، زاد ما زاد“ (رواہ ابوداؤد و اسنادہ صحیح)

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

”جو آدمی نجوم کا کوئی شعبہ اپناتا ہے وہ دراصل جادو کا ایک شعبہ اختیار کرتا ہے اور اگر زیادہ تو زیادہ (شعبے)“۔

چنانچہ یہ سب دھندے نواقض اسلام میں آتے ہیں۔ ان کا گاہک بن کر آدمی مسلمان نہیں رہتا۔

(البقرہ: ١٠٢)

”اور (یہ کفر کرتے وقت) انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا، اس کیلئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں“۔

ستاروں اور برجوں کا علم اور قسمت کا حال جو اخبارات وجرائد میں یوں بے تحاشا لنڈھایا جاتا ہے …. یہ محض کوئی پرانی طرز کے ضعیف الاعتقاد، دقیانوسی اور ان پڑھ جاہلوں کا امتیاز نہیں۔ اتنی سی ’ایمانیات‘ کی گنجائش ’جدید‘ لوگوں کے ہاں بھی رکھی گئی ہے! مغربی اصطلاحات جاننے والے نجومی اب ’پروفیسر‘ کہلاتے ہیں!

آپ کے یہاں کا شاید ہی کوئی اخبار یا میگزین ہو جو ’آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا‘ کے عنوان کے تحت ایسے کسی نجومی یا پروفیسر پر شیطان کی اتاری ہوئی وحی بڑی باقاعدگی سے شائع نہ کرتا ہو۔ اخبارات وجرائد کو ظاہر ہے جدید پڑھے لکھے چلاتے ہیں۔ ’آئندہ ہفتہ‘ والا صفحہ پڑھنے میں بہت سے جدید تعلیم یافتہ بھی اتنی ہی دلچسپی لیتے ہیں جتنی کہ ان پڑھ اور ’پسماندہ‘ لوگ۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ نجوم اور برجوں پر مشتمل ’قسمت کا حال‘ ہمارے یہاں کے اخبارات وجرائد کا مستقل حصہ کیوں ہے؟ کیونکہ مغرب کے اخبارات وجرائد بھی شیطان کی اس وحی کے شائع کرنے کا باقاعدہ اہتمام کرتے ہیں۔ وہ چھوڑ دیں تو شاید یہ بھی اس پر کچھ بہت زیادہ اصرار نہ کریں گے!

اللہ کی آزمائش کہ بعض لوگوں کو ’نجوم‘ کی دی ہوئی مستقبل کی خبروں میں کبھی کوئی چیز سچ نظر آجاتی ہے تو آدمی جتنا مرضی پڑھا لکھا ہو وہ ان کی تصدیق پر مائل ہونے لگتا ہے …. اور شیطان کے چنگل میں پھنس جاتا ہے۔

اللہ واحد پر ایمان کی مٹھاس اور یقین کی ٹھنڈک اور توکل کا لطف صرف ایک موحد لے سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں