11

قیامت کے دن بھی باپ کے نام سے پکارا جائے گا جیسا کہ دنیا میں پکارا جانا معروف ہے۔۔۔

قیامت کے دن بھی باپ کے نام سے پکارا جائے گا جیسا کہ دنیا میں پکارا جانا معروف ہے۔۔۔

۔
یہ غلط بات عوام میں مشہور ہوگئی ہے کہ قیامت کے دن ہر ایک کو ماں کے نام سے پکارا جائے گا تاکہ زنا کرنے والی عورت کا پردہ رہے۔ واضح رہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ قرآنِ پاک میں حکم ہے: ادعوہم لآباءِہم (سورۃ احزاب:5)۔ اس آیت میں لے پالکوں کے بارے میں حکم ہے کہ ان کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف نسبت کرکے بلاؤ، یعنی دنیا میں شناخت کی چوری (Identity Theft) کی ممانعت کی گئی ہے۔ قرآنِ مجید میں اس واضح حکم کے علاوہ اس ضمن میں کچھ نہیں ہے۔

بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی کی طرف اپنے آپ کو منسوب کیا (یعنی اپنا نسب کسی اور خاندان والا بتایا) جب کہ وہ جانتا ہو کہ فلاں اس کا باپ نہیں ہے اس پر جنت حرام ہے۔ اسی طرح بخاری کی ایک حدیث میں اپنے باپ کے علاوہ کس دوسرے کی طرف نسبت کرنے کو کفر کہا گیا ہے۔ بعض جھوٹی حدیثیں بنائی گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن ماؤں کے نام سے پکارے گا تاکہ اس کے بندوں کی پردہ پوشی رہے، ایسی احادیث کو شیوخ الحدیث نے موضوع اور باطل قرار دیا ہے۔

القصہ لوگوں کو قیامت کے دن بھی باپ کے نام ہی سے پکارا جائے گا جیسا کہ دنیا میں پکارا جاتا ہے۔

ہٰذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں