58

لبرل کی پہچان

لبرل کی پہچان
سکندر حیات بابا
مکرر پوسٹ جدید ایڈیشن

خدشہ ھے کہ میری یہ تحریر پڑھ کر کوئی لبرل غیرت کی وجہ سے خودکشی نہ کرلے ، لیکن ایسے امید کرنا بھی در اصل حماقت ہی ھے، کیوں کہ غیرت اور لبرل دو متضاد چیزیں ہیں

دنیا میں تین قسم کے لوگ رہتے ہیں

ایک باحیا ، دوسرے بے حیا، اور تیسرے لبرل

شرم والی بات پر شرمندہ ہونے والے با حیا ہوتے ہیں ،اورشرم نہ کرنے والے بے حیا ،اور وہ جنہیں دیکھ کر بے حیا بھی شرماجائیں ، انہیں لبرل کہتے ہیں

انسان جب فطرت انسانیت سے چھٹکارا پاکر کتے پن پر اترتا ھے تو لبرل کہلاتا ھے ،اسی طرح کتا جب اپنی فطرت سے ہٹ کر برے انسانوں کی طرح بے وفائی کرنے لگ جائے تو اپنی کمیونیٹی میں گویا لبرل ہوجاتا ھے ، اسی لئے آج کل کتا مارکیٹ میں بے وفا کتے کو لبرل کتا بھی کہتے ہیں

لبرل نام ہی ایسا ھے کہ کسی شریف عورت کو لبرل کہہ دیں تو شرافت چھوڑ کر مرنے مارنے پر تل جائے ،اور کسی بدمعاش مرد کو لبرل کہا تو اس طعنے کے بوجھ سے بدمعاشی چھوڑ دے کہ اب لوگ میرے کرتوتوں کی وجہ سے مجھے اس قدر گرا ہوا سمجھنے لگے ہیں

چونکہ لبرل کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا سوائے اسکے کہ ہر نظریے سے آزاد رہا جائے ، اسی بنا پر لبرل غضب کا طوطا چشم ہوتا ھے ،مصیبت پڑنے پر لبرل اسے قاتل وحشی غنڈہ وغیرہ کہنے سے بھی نہیں چوکتا جسے مصیبت سے پہلے اپنا ہی نہیں بلکہ اپنے تئیں فادر آف دہ نیشن یعنی قوم کا باپ قرار دیا ھوتا ھے

آپ مخالفت میں کسی بات پر لاکھ دلیلیں پیش کردیں ، لبرل کو بیستی کبھی فیل نہیں ہوتی ، تکنیکی طور پر یہ اسلئے بھی ممکن ہوپاتا ھے کہ بیستی محسوس ہونے کے لئے بندے میں شرم کا ہونا ضروری ہوتا ھے ، جبکہ یہ تو ممکن ھے کے ایک ملک میں بیک وقت دو بادشاہ اور ایک میان میں دو تلواریں رہ لیں ، لیکن ایک وجود میں لبرل ازم اور شرم اکھٹے کبھی نہیں رہ سکتے

ہر منافق لبرل نہیں ہوتا لیکن ہر لبرل منافق ضرور ہوتا ھے

دو باتیں ایسی ہیں جو ہر لبرل کی فیس بک وال کے ساتھ خاص ہوتی ہیں

ایک بات وہ جو ہمیشہ ہوگی اور ایک وہ جو کبھی نہیں ہوگی

پہلی بات
لبرل کی وال پر عورت کی آزادی سے متعلق کالے قول ضرور سنہرے حروف میں جگمگاتے نظر آئنگے

دوسری بات
آپ کو لبرل کی وال پر اسکے گھر کی عورت کبھی نظر نہیں آئگی

لبرل پن کی معراج یہ ھے کہ لبرل آنٹی کا کتا آنٹی خود نہلائے اور آنٹی کے بچے ان کی نوکرانی پالے

لبرل آنٹیز بیچاری بہت مظلوم ہوتی ہیں ، یہ دن رات ظالم مردوں میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوتی ہیں، کیوں کہ وہ نوکرانی جو ان کے بچوں کو پالتی ھے اسکی تنخواہ کی ادائگی یقینی بنانا بھی ضروری ہوتا ھے

ہر وہ لبرل مرد جو خود کماتے ہوئے تھک جائے اور بیوی اسکی کمائی کو فراخ دلی سے خرچ کرتی ہو ، مرد اسے لبرل بنانے میں ہی عافیت سمجھتا ھے ، اسطرح اسے اکیلے نہیں کمانا پڑتا ، بلکہ بعض” چالاک ” لبرل تو عورت کو لبرل بناکر خود گھر ہی بیٹھ جاتے ہیں اور لبرلانہ کمائی پر موج اڑاتے ہیں

جدید مثل ھے کہ لبرل کی سوچ اور کتے کی دم کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی

لبرلز اپنی طرز کے عجیب مخلوق میں شمار ہوتے ہیں ، ان کے دل میں بقول ان کے انسانیت کے لئے درد تو بے پناہ ہوتا ھے پر حقیقت میں انسانیت ان سے پناہ مانگتی ھے اور بے پناہ مانگتی ھے

چھوٹی اور عام سی مثال ان کے ماں باپ اولڈ ہاوس میں اور ان کے کتے ان کے ساتھ گھر میں رہتے ہیں

اس ساری تقریر دلپزیر کو آسانی سے یوں سمجھیں کہ لبرل وہ ہوتا ھے ، جس کا خون سفید ،باتیں سنہریں ، اور کرتوت سیاہ ہوتے ہیں

سکندر حیات بابا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں