68

ایک نالائق طالبِ علم کی غزل ( محمد خلیل الرحمٰن )

نقل کرنے میں وہ میری ہیلپ فرماویں گے کیا
گر نہیں کی ہیلپ تو ہم فیل ہو جاویں گے کیا

بد تمیزی حد سے گزری، بندہ پرور کب تلک
گالیاں سن کر بھی ہم خاموش ہو جاویں گے کیا

حضرتِ استاد آویں ، دیدہ و دِل فرشِ راہ
فیل ہونے والے لڑکوں کو پڑھا پاویں گے کیا

جب قسم کھا لی سبق پڑھ کر نہیں دیویں گے ہم
اب پڑھانے کے لیے ترکیب وہ لاویں گے کیا

گر کیا ٹیچر نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی
گُر کلاسیں بنک کرنے کے یہ چھُٹ جاویں گے کیا

ہے ریاضی کا سبق مشکل بہت ہم کیا کریں
دِل نہیں سمجھے گا پر استاد سمجھاویں گے کیا

ہے اب اس اسکول میں قحطِ محبت اے خلیل
ہم نے مانا پڑھ لیے ، یوں پاس ہو جاویں گے کیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں