ستاروں کے بارے میں مزید جانئے 22

ستاروں کے بارے میں مزید جانئے

رات کا آسمان، ستاروں کی روشنی سے منور ہوتا ہے۔ جب ہم اپنی نگاہ اٹھا کر دیکھتے ہیں تولگ بھگ تین ہزار تک کی تعداد میں ستارے دیکھ سکتے ہیں۔ مگر یہ تعداد تو بس سمندر میں سے ایک قطرہ ہی ہے۔ صرف ہماری کہکشاں ملکی وے ہی میں ایک کھرب سے زائد ستارے موجود ہیں؛ اور قابلِ مشاہدہ کائنات میں اندازاً دو کھرب (دو سو اَرب) سے بھی زیادہ کہکشائیں ہیں۔ ستاروں کی تعداد، زمین پر موجود ریت کے ذرّوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ ہر ستارہ طاقت و توانائی کا عظیم الشان منبع ہوتا ہے؛ اور ہم سمیت کائنات کی ہر چیز کا بنیادی خام مال اسی کے قلب میں تیار ہوتا ہے۔ یہ ہم سے نہایت فاصلے پر واقع ہیں۔ مگر ایک ستارہ ہم سے بہت نزدیک بھی ہے؛ اور ہمیں اب تک جو کچھ دوسرے ستاروں کے بارے میں معلوم ہوا ہے، وہ اسی پڑوسی ستارے کی بدولت ہے۔ جی ہاں! یہ ہمارا سورج ہے… ہر روز طلوع اور غروب ہونے والا سورج۔

سورج کی دھوپ جو ہمیں روشنی اور حرارت فراہم کرتی ہے، کچھ اور نہیں بلکہ ستارے ہی کی روشنی ہے۔ ہمارا سورج بھی دوسرے ستاروں کی طرح ایک ستارہ ہے۔ زمین سے دیکھنے پر سورج ایک روشن گیند کی مانند لگتا ہے جس کی روشنی، آنکھوں کو چندھیا دیتی ہے۔ کائنات کا ایک طاقتور ترین جسم ہمارا پڑوسی ہے۔ یہ انتہائی گرم گیس کی ایک گیند ہے جو ہمارے نظام شمسی کو 4.6 ارب سال سے روشن کئے ہوئے ہے۔ زندگی کا سارا دار و مدار اسی پر ہے۔ سورج ہم سے تقریباً 9 کروڑ میل کی دوری پر ہے۔ اس کا مطلب، درحقیقت بہت ہی زیادہ فاصلہ ہے۔

دس لاکھ سے بھی زیادہ زمینیں سورج میں سما سکتی ہیں۔ اس کا محیط 27 لاکھ میل پر پھیلا ہوا ہے۔ اس عظیم الشان جسامت کے باوجود، ہمارا سورج کائنات کے دوسرے ستاروں کے مقابلے ایک ننھا سا ستارہ ہے۔ اِیٹا کرینی (ETA Crainee) ہمارے سورج سے پچاس لاکھ گنا بڑا ہے۔ ابط الجوزا (Betelgeuse)، ایٹا کرینی سے بھی 300 گنا بڑا ہے۔۔ اگر یہ سورج کی جگہ ہمارے نظام شمسی کا حصّہ ہوتا، تو یہ مشتری کے مدار سے بھی آگے نکل جاتا۔ (ملاحظہ کیجئے تصویر نمبر1 اور 2)۔ یو وائی اسکوٹی (UY Scuti) اب تک کے دریافت شدہ ستاروں میں سب سے بڑا ہے۔ یہ ہمارے سورج سے لگ بھگ پانچ ارب گنا بڑا ہے!

قوّت ثقل، جو ستارے کی بیرونی پرت کو مسلسل دباتی رہتی ہے۔ ستارے کی پوری زندگی قوّت ثقل اور نیوکلیائی قوت کی ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی میں گزرتی ہے۔ ان دونوں قوتوں ہر وقت ایک دوسرے کو للکارتی رہتی ہیں۔ قوّت ثقل ستارے کو دبا کر پچکانا چاہتی ہے جبکہ نیوکلیائی قوت اسے دھماکے سے اس کے پرخچے اُڑادینے کی کوشش میں مصروف رہتی ہے۔ مگر ان دونوں قوتوں کے مابین اس قدر توازن ہوتا ہے کہ ستارہ اربوں سال تک یونہی قائم و دائم اور روشن رہتا ہے۔ قوتوں کے مابین برتری قائم کرنے کی یہ جنگ، ستارے کی تمام زندگی چلتی رہتی ہے۔ جوں جوں جنگ آگے بڑھتی ہے، ستارہ گرمی اور روشنی کو باہر نکالنے کےلئے بیتاب ہوتا جاتا ہے۔

روشنی، یعنی توانائی کا ہر ذرّہ (فوٹون) باہر نکلنے کےلئے ایک عظیم سفر طے کرتا ہے۔ روشنی کی رفتارلگ بھگ 67 کروڑ میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں زمین کے گرد سات چکر مکمل کرسکتی ہے۔ کائنات میں کوئی بھی چیز اس رفتار کو مات نہیں دے سکتی۔ روشنی کی اس رفتار کے باوجود، ستارے ہم سے اس قدر دور ہیں کہ ان سے چلنے والی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں، بلکہ اربوں سال تک لگ جاتے ہیں۔ لہٰذا جب ہبل دوربین، خلاء کے دور دراز گوشوں میں جھانکتی ہے تو وہ دراصل اسی روشنی کو دیکھ پاتی ہے جو کروڑوں اربوں سال پرانی ہوتی ہے۔ ایٹا کرینی ستارے کی وہ روشنی جو ہم تک آج پہنچ رہی ہے، وہ اس ستارے سے تب نکلی ہوگی جب ہمارے آبا و اجداد نے ٨ ہزار سال قبل، یہاں زمین پر، پہلی مرتبہ کاشتکاری شروع کی تھی۔ ابط الجوزا (Betelgeuse) ستارے کی وہ روشنی جو آج کی تاریخ میں ہمیں موصول ہورہی ہے، وہ اس زمانے میں وہاں سے روانہ ہوئی تھی جب آج سے تقریباً پانچ سو سال پہلے کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تھا۔ ہمارے آنگن کا ستارہ، ہمارا سورج ہم سے نزدیک ترین ہے۔ لیکن اس کی روشنی بھی ہم تک پہنچنے میں آٹھ منٹ اور بیس سیکنڈ لگادیتی ہے… یہ کائنات واقعی بہت، بہت بڑی ہے!

مگر اس سے پہلے کہ روشنی اپنا سفر خلاء میں شروع کرے، وہ ہزاروں سال کا سفر کرچکی ہوتی ہے۔ جب سورج اپنے قلب میں ہائیڈروجن مرکزوں کو ایک دوسرے میں ضم کرکے ہیلیم بناتا ہے، تو ساتھ میں فوٹون بھی پیدا ہوتے ہیں۔ فوٹون، روشنی کا ذرّہ ہوتے ہیں۔ روشنی کی کرن کو سورج کی سطح تک پہنچنے کےلئے ابھی بہت سا سفر کرنا ہوتا ہے۔ پورا سورج ہی اس کے راستے میں حائل ہوتا ہے۔ جیسے ہی فوٹون پیدا ہوتے ہیں، ابھی وہ زیادہ دور نہیں جاتے کہ ایٹمی مرکزے کے کسی دوسرے حصے سے ٹکرا جاتے ہیں: کبھی پروٹون سے تو کبھی نیوٹرون سے۔ یہ اسے جذب کرکے کسی دوسری طرف پھینک دیتے ہیں۔ یہ عمل کئی مرتبہ دوہرایا جاتا ہے۔ گویا فوٹون بے چارے، سورج کے اندر مارے مارے پھرتے ہیں۔

پھرتے ہیں میر خوار، کوئی پوچھتا نہیں!

بہرحال! انہیں اپنی آزادی کےلئے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ سورج کی سطح تک آنا، فوٹون کےلئے انتہائی دقّت طلب سفر ہوتا ہے۔ انہیں سورج سے فرار حاصل کرنے کےلئے ارب ہا ارب مرتبہ گیسی ایٹموں کے مرکزوں سے ٹکرانا، یعنی اپنا سر پھوڑنا پڑتا ہے۔ اس پورے چکر میں جو بات سب سے اہم ہے، وہ یہ ہے کہ فوٹون کو سورج کی سطح پر آنے میں ہزار ہا ہزار سال لگ جاتے ہیں۔ مگر جیسے ہی وہ سورج کی سطح تک پہنچ کر وہاں سے فرار ہوتا ہے، تو اسے ہم تک پہنچنے میں صرف آٹھ منٹ اور چند سیکنڈ لگتے ہیں۔

#جہان_سائنس #سائنس #اردو #ترجمہ #طبیعیات #فلکیات #کائنات #ستارے #نظام_شمسی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں